Frequently Asked Questions in Urdu

اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا یہ درست ہے کہ ہیلتھ انشورنس پروگرام بند کر دیا گیا ہے؟
 نہیں، یہ درست نہیں۔ ہیلتھ انشورنس پروگرام بند نہیں ہوا۔ اس حوالے سے جو غلط فہمی پائی جارہی ہے وہ پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے ہے۔ ہیلتھ انشورنس کو صرف سرکاری ہسپتالوں میں بند کیا گیا ہے، تاہم سرکاری ہسپتالوں میں علاج پہلے بھی مکمل طور پر مفت تھا اور اب بھی مفت فراہم کیا جارہا ہے۔ اس لیے عوام کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ ہیلتھ انشورنس  پروگرام کے تحت پنجاب بھر کے پینل پر موجود پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج جاری ہے جو اس پروگرام کی امتیازی خصوصیت ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کو شامل کرنے کا مقصد سرکاری ہسپتالوں کا بوجھ کم کرنا اور ہنگامی حالات میں قریبی پرائیویٹ ہسپتال سے فوری علاج ممکن بنانا تھا۔ یہ دونوں مقاصد اب بھی پورے کیے جا رہے ہیں۔
 پروگرام کےتحت علاج  حاصل کرنے کے لیے کون لوگ اہل ہیں ، کیا اس کے لئے کسی جگہ رجسٹریشن کی ضرورت ہے؟
 ہیلتھ انشورنس  پروگرام کےتحت علاج کے حصول کے لئے کسی طرح کی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے، پنجاب کے تمام مستقل رہائشی اس پروگرام کے اہل ہیں۔پنجاب کے مستقل رہائشی ہونے کی صورت میں  ہسپتال میں اپنا قومی شناختی کارڈ   دکھا کر علاج حاصل کیا جا سکتا ہے ۔  تا ہم پروگرام  کے تحت علاج کی بلا تعطل اور بر وقت فراہمی کے لئے خاندان کے تمام افراد کے کوائف کانادرامیں درست اور مکمل اندراج ضروری ہے۔ اگر آپ اہل ہیں تو اپنا اصل شناختی کارڈ لے کر کسی بھی پینل شدہ ہسپتال جائیں۔ ہسپتال میں موجود ہیلتھ انشورنس پروگرام کا نمائندہ  آپ کی رہنمائی کرے گا۔
 ہیلتھ انشورنس   پروگرام کے تحت کون کون علاج کی سہولت حاصل کر سکتا ہے؟
ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت خاندان کا سربراہ، اسکی شریکِ حیات اور غیر شادی شدہ بچے،منتخب  ہسپتالوں میں داخلے کی صورت میں،علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر کوئی فیملی ممبر ڈیٹا میں شامل نہ ہو (مثلاً شادی یا نوزائیدہ بچہ) تو کیا کرنا ہوگا؟
اپنا ریکارڈ نادرا میں اپڈیٹ کریں۔ نادرا کی اپڈیٹ شدہ معلومات خودکار طور پر صحت سہولت پروگرام میں شامل ہو جائیں گی۔
18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے، تو فارم-بی صحت سہولت پروگرام کے ہسپتال ہیلپ ڈیسک پر جمع کروائیں۔
  اس پروگرام کے تحت کیا علاج مکمل طور پر مفت ہے؟
ہیلتھ انشورنس  پروگرام کے تحت  پینل پر موجود پرائیویٹ ہسپتالوں میں  آئی سی یو، سی سی یو، این آئی سی یو، میڈیکل کیسز، تھیلیسیمیا اور ایمرجنسی کی تمام سہولیات مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ دیگر امراض میں علاج کے اخراجات کا 50 فیصد ہیلتھ انشورنس برداشت کرتا ہے جبکہ باقی 50 فیصد مریض کے لواحقین کو ادا کرنا ہوتا ہے۔
 
اگر میں پنجاب کا مستقل رہائشی ہوں لیکن غیر اہل ظاہر ہو رہا ہوں تو کیا کروں؟
آپ کو قریبی نادرا دفتر جا کر اپنا خاندانی ڈیٹا اپڈیٹ کرانا ہوگا۔ جب نادرا ڈیٹا اپڈیٹ کر دے گا تو آپ کی اہلیت درست ہو جائے گی۔
یا آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں:
  info@phimc.punjab.gov.pk: ای میل
 ہیلپ لائنز:  0800-07542(24/7)
0333-6756390 / 042-99066000 / 042-99066001
(پیر تا ہفتہ، صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک)
 
 
ہسپتال جانے سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟          ہسپتال میں داخلے کا طریقہ کار کیا ہے؟
صرف ان ڈور (داخلے والے) علاج کی سہولت ہے، او پی ڈی شامل نہیں ہے۔
اس پروگرام کے تحت آپ کو منتخب ہسپتالوں میں داخلے کی صورت میں صحت کارڈپر علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اگر قریبی پینل شدہ ہسپتال موجود نہیں تو مقامی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بصورت دیگر پینل شدہ ہسپتال جائیں جہاں ڈاکٹر رہنمائی کرے گا کہ داخلہ درکار ہے یا نہیں۔
ہسپتال میں داخلے کیلئے جانے سے قبل یہ اطمینان کرلیں کہ آپ کے پاس آپ کااصل قومی شناختی کارڈ اور بچوں کے داخلے کی صورت میں ان کا ب فارم لازمی موجود ہو۔
ان دستاویزات کے ساتھ ہمارے منتخب کردہ ہسپتالوں میں سے کسی بھی قریبی ہسپتال کا انتخاب کریں۔ وہاں پہنچنے پر اس پروگرام کا نمائندہ ہسپتال کے استقبالئے پر آپ کی رہنمائی کیلئے موجود ہوگا۔
نمائندہ آپ کے قومی شناختی کارڈ کی جانچ کرے گا اور متعلقہ شعبے تک آپ کی رہنمائی کرے گا۔
 
 
پینل شدہ ہسپتالوں کی فہرست کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟
پینل شدہ ہسپتالوں کی فہرست ملاحظہ کریں یا ہیلپ لائن پر رابطہ کریں:
0800-07542 (24/7)
0333-6756390
 / 042-99066000 / 042-99066001پیر تا ہفتہ، صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک
 
 
ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت کون کون سی بیماریوں کا مفت علاج ممکن ہے؟
۔ 1 ثانوی علاج
اس پروگرام کے تحت ہر رجسٹرڈ خاندان کو ہسپتال میں داخلے کی صورت میں ابتدائی طور پر سالانہ60,000/-روپے تک کی رقم کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
اس میں وہ تمام علاج شامل ہیں جن میں ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو۔
۔2 ترجیحی علاج
اس پروگرام کے تحت پنجاب کے ہر خاندان کوہسپتال میں داخلے کی صورت میں ابتدائی طور پر سالانہ/-400,000روپے تک کی رقم تک کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
ترجیحی علاج میں شامل پیچیدہ اور بھاری اخراجات والی بیماریاں:
امراض قلب           
ذیابیطس سے متعلق پیچیدگیاں جن میں داخل ہونا ضروری ہو
حادثاتی چوٹیں (زندگی بچانے کے علاوہ ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ، سڑک کا حادثہ، جلنے کا علاج)
دائمی بیماریوں کی پیچیدگی کا علاج، جیسا کہ (یرقان Hepatitis B، کالا یرقان Hepatitis C)
اعصابی نظام کی جراحی
تھیلیسیمیا کا علاج
 
کیا دوائیاں، ٹیسٹ اور ڈائیگنوسٹکس کور ہوتے ہیں؟
جی ہاں، ادویات، ٹیسٹ اور تشخیصی سہولیات ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت فراہم کی جاتی ہیں، لیکن صرف اُس صورت میں جب مریض کو ہسپتال میں داخل کیا جائے۔ (Co-payment) پالیسی کے مطابق، اخراجات کا 50 فیصد ہیلتھ انشورنس برداشت کرتا ہے جبکہ باقی 50 فیصد مریض کے اہل خانہ کو ادا کرنا ہوتا ہے۔
 
 فیملی کے لیے کتنی کوریج فراہم کی جاتی ہے؟
فیملی کے لیے سالانہ 60,000 روپے  (سیکنڈری کیئر)
فیملی کے لیے سالانہ 400,000 روپے (پرائرٹی کیئر)
خاص صورتوں میں کوریج بڑھا کر 10 لاکھ روپے تک کی جا سکتی ہے
 اگر میرے علاج کی لاگت کوریج کی حد سے بڑھ جائے تو کیا ہوگا؟
اگر آپ ہسپتال میں داخل ہیں اور کوریج ختم ہو جائے تو موجودہ علاج جاری رہے گا۔
جان لیوا امراض کی صورت میں علاج کوریج ختم ہونے کے بعد بھی کیا جائے گا۔
 
 
پروگرام کی دیگر نمایاں خصوصیات کیا ہیں؟
• خاندان کے افراد کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔
• پروگرام میں شامل افراد کی عمر کی کوئی حد نہیں۔
• پہلے سے موجود بیماریوں کا علاج بھی شامل ہے
• پنجاب سے باہر اور ملک بھر میں پینل شدہ ہسپتالوں میں علاج کی سہولت۔
• سہولتیں ایک کنٹریکٹڈ انشورنس کمپنی کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
• ہیلتھ انشورنس سے مستفید ہونے کیلئےخاندان کےتمام کوائف (مثلاً شادی، پیدائش، وفات وغیرہ) کا نادرا میں درست اندراج ضروری ہے۔
• یہ سہولت صرف ہسپتال میں داخلے کی صورت میں ہی میسر ہوگی۔
•   ہسپتال میں داخلے کے بعد 50 فیصد خرچ مریض کی جانب سے ادا کیا جائے گا جبکہ 50فیصد ادائیگی صحت سہولت پروگرام کے تحت گی۔
 
کن علاج کی سہولت دستیاب نہیں ہے؟
مندرجہ ذیل علاج پروگرام یا انشورنس کمپنی کے تحت شامل نہیں:
• او پی ڈی وزٹ
• نارمل ڈلیوری اور سی سیکشن
• کاسمیٹک سرجریز
• ڈینٹل ٹریٹمنٹس
• نظر کی عینکیں
• منشیات  سے متعلق  بیماریوں کا علاج
• خودکشی یا جرائم کے دوران ہونے والی چوٹیں
• وہ علاج جو انشورنس کمپنی کی پالیسی کے تحت شامل نہ ہوں
 
اگر ہسپتال داخلہ یا علاج دینے سے انکار کرے تو کیا کرنا چاہیے؟
پہلے یہ تصدیق کریں کہ:
آپ کا کیس او پی ڈی کا نہیں بلکہ داخلے کا ہے۔
علاج ممنوعہ فہرست میں شامل نہیں۔
کوریج کی حد ختم نہیں ہوئی (ایمرجنسی کے سوا)۔
اگر پھر بھی علاج سے انکار ہو تو رابطہ کریں:
ہسپتال میں موجود ہمارے نمائندے سے
             info@phimc.punjab.gov.pk: ای میل
ہیلپ لائنز:
0800-07542 (24/7)
0333-6756390
 / 042-99066000 / 042-99066001پیر تا ہفتہ، صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک
 
 اگر میں اپنی کوریج استعمال نہ کروں تو کیا مجھے رقم ملے گی؟
نہیں۔ یہ پروگرام صرف داخلے والے علاج کے اخراجات ادا کرتا ہے۔ استعمال نہ ہونے پر رقم نہیں ملتی۔
 
 کیا میں ہیلتھ انشورنس پورے پاکستان میں استعمال کر سکتا/سکتی ہوں؟
جی ہاں، آپ پاکستان کے کسی بھی پینل شدہ ہسپتال میں علاج کروا سکتے ہیں۔ تفصیل کے لیے پینل شدہ ہسپتالوں کی فہرست دیکھیں یا ہیلپ لائن پر کال کریں:
 
0800-07542 (24/7)
0333-6756390
 / 042-99066000 / 042-99066001پیر تا ہفتہ، صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک